کیا واقعی سب کچھ بدل چکا ہے؟

دبئی میں پہلا لاک ڈاؤن مارچ ۲۰۲۰ میں لگا تھا۔ کووڈ نے رفتہ رفتہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پچھلے ڈیڑھ سال میں کبھی خوف، کبھی مایوسی، کبھی زوم میٹنگز، کبھی ویکسین سے پیدا ہونے والی امید، کبھی خاموش مولز اور کبھی گھر پر گھٹ کر بیٹھنے سے تنگ لوگوں کا شاپنگ سینٹرز اور پارکس میں ہجوم ۔۔۔ سب ہی کچھ کورونا وائرس نے ہمیں دکھا دیا۔ گو کہ کووڈ کے بعد کی زندگی نہایت مختلف ہے اور کل کیا ہو گا یہ کوئی نہیں جانتا۔

اک وقت آیا تھا یوں معلوم ہوتا تھا کہ سائنسی ایجادات اور ویکسین اس وباء سے ہماری جان بخشی کرا دینگے لیکن کورونا نے خود پر اک نیا روپ چڑھا لیا۔ یہ اب ڈیلٹا کی شکل میں دنیا پر نۓ جوش سے حملہ آور ہے۔ دنیا بھر میں کووڈ کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے ممالک ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کر رہے ہیں۔

میں چہرے سے اپنا ماسک تھوڑا سا سرکاتی ہوں اور اک لمبی سانس لیتی ہوں۔ اسپتال میں سوشل ڈسٹنسنگ تو بس نام کی ہے، میں خود سے کہتی ہوں اور کووڈ ویکسین لگوانے والوں کی لمبی قطار میں بیٹھ جاتی ہوں۔ اے خدا دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ حج تو حج لگتا ہی نہیں اور جانے کب پاکستان کی فلائٹیں کھلیں گی۔ جانے کب دنیا پھر سے سیف ہو گی، کیا زندگی پھر کبھی نارمل ہو گی؟ کون کب اس بیماری کی زد میں آ کر دنیا چھوڑ جاۓ گا، کون اس بیماری سے جنگ میں بظاہر تو جیت چکا ہے لیکن اندر سے بدن کھوکھلا ہو چکا ہے اور آخر کون جانتا ہے کہ ویکسین کے سائڈ افکٹ کچھ سال بعد کیا ہوںگے؟ اور ان جانے والوں کا کیا جو کچھ زیادہ ہی جلدی کوچ کر گۓ اور ٹوٹے دل اور ادھوری زندگیاں چھوڑ گۓ؟

انہیں خیالوں نے مجھے گھیرا ہوا ہے کہ یکایک میری نظر ایک ضعیف آدمی کی جانب پڑتی ہے۔ میری طرح یہ صاحب بھی ویکسین کی قطار میں بیٹھ کر انتظار کر رہے ہیں لیکن اپنی کرسی پر بیٹھ کر یہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ ان کا چہرہ یوں تو نہایت تھکا ہوا ہے ہے اور اس پر کافی جھریاں بھی ہیں لیکن ان کی شکل پر اک عجیب سا سکون دکھائی دیتا ہے جیسے واقعی کوئی خوف یا غم انہیں کبھی لاحق نا ہوا ہو۔

سچ ہی تو ہے ۔۔ کووڈ نے جہاں بہت کچھ بدل دیا ہے وہاں ابھی بھی بہت سارا کچھ بالکل ویسا ہی ہے۔ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی لذت اب بھی وہی ہے اور روزہ رکھ کر افطار میں پانی پینا بھی ویسا ہی ہے۔ ساحلِ سمندر پر چلتی ٹھنڈی ہوا اور گرمیوں کی بارش کی وہ چہرے پر گرتی پہلی بوندیں بھی ویسی ہی ہیں۔ کعبے کا تقدس اور مدینے کا سکون اب بھی ویسا ہے۔

رات کے آخری پہر میں بیدار ہو کر رب تعالی کے آگے اقرارِ جرم کر کے اس پر آہ و زاری کرنا اب بھی ویسا ہی ہے۔ معصوم بچوں کی مسکراہٹ اور ان کے ننھے ہاتھوں کا گردن پر لپٹ جانا بھی تو ویسا ہے۔ رشتوں میں لغزشیں اور معافی تلافی اور محبت تو اب بھی ہے۔ کسی دوست سے بات کر کے دل کا کھل اٹھنا بھی تو ویسا ہی ہے اور کسی کے لۓ چپکے سے دعا مانگ کر ان کی آواز میں تازگی سننا بھی تو ویسا ہی ہے۔ اپنی کوئی پسندیدہ شے بغیر کسی کو بتاۓ، بغیر خود سے تذکرہ کۓ اللہ کی خاطر قربان کر دینا بھی ممکن ہے۔ اللہ کا نام لے کر اس کا مزہ چند لمحوں تک لیتے رہنا اور قرآن کی تلاوت حقیقتاً ربیعِ قلب بن جانا اور پھر اس کا قلب میں اتر جانا تو اب بھی ممکن ہے۔

خدا سے باتیں کرنا، میرا اس ذکر کرنے پر اس کا مجھے یاد کرنا اور اس سے ایک دن ملنے کی آس رکھنا بھی تو ویسا ہی ہے نا۔ درود شریف کی چاشنی بھی تو اسی طرح روح میں گھلتی ہے اور نامِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اب بھی دنیا بھر میں رحمت کا پیغام ہے۔ اور تو اور ۔ موت سے ملنا بھی عین اسی وقت پر ہوگا جس وقت پر لوح و قلم میں لکھا ہے اور اسی طرح ہو گا اور اسی حال میں ہو گا۔ یہ جو چند لمحے مل گۓ ہیں یہاں پر کیوں نا انہیں شکرگذاری اور عشق کی ان راہوں پر چلتے ہوۓ گزاروں جہاں ناکامی ممکن ہی نہیں؟

ہاں۔ کووڈ بہت کچھ بدل چکا ہے مگر جو چیزیں سچ مچ اہم ہیں وہ تو اب بھی میسر ہیں۔ کیا یہ موقع الحمدللّٰہ

کہنے کا نہیں؟ فبای الا ربکما تکذبان

اے دل! اے کاش کہ تو فائدہ اٹھا لے قبل اس سے کہ دیر ہو جاۓ۔۔۔

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونے نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

Foggy morning

For those who read Urdu 🙂

سردیوں کے موسم میں صبح صبح لحاف سے باہر نکلنا اپنے آپ میں کسی جہاد سے کم نہیں۔ اس پر ستم یہ کہ وضو بھی کیجۓ اور پورے خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز کے فرائض بھی سر انجام دیجیۓ۔ سچ کہوں تو یہ تھوڑی سی مشقت ان ملاقاتوں کی لذت میں مزید مٹھاس پیدا کر دیتی ہے۔ 

ایک ایسی ہی خوبصورت صبح کی حکایت آج بیان کرنے لگی ہوں۔ میں گرم کپڑے پہنتی ہوں اور جوتوں کے تسموں کو کس کر باندھتی ہوں اور چہل قدمی کی غرض سے گھر سے نکلتی ہوں۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ تہ ہوا ہے کہ کسی گلی میں ایک ایسی پگڈنڈی دکھائی دیتی ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی اور ایک نیا رستہ مجھے اپنی جانب کھینچتا چلا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ میں لوگوں کی نظروں سے اوجھل ایک پوشیدہ اور نہایت ہی خوبصورت باغ میں خود کو پاتی ہوں۔ 

دنیا ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی، سورج طلوع ہونے کا ارادہ کر چکا ہے مگر ابھی دکھائی نہیں دے رہا ۔ افق پر دور کہیں صبح کی پہلی روشنی خراماں خراماں آسمان پر چھاتی جا رہی ہے۔ میرے ارد گرد سبزہ ہی سبزہ ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور ہی جہاں میں قدم رکھ دیا ہو۔ 

باغ میں داخل ہوتے ہی سردی کی شدت بڑھ جاتی ہے اور میں منہ سے گرم ہوا نکالتے ہوۓ ہاتھوں کو گرمانے کی کوشش کرتی ہوں۔ منہ سے ہوا نکلتی ہے تو گویا معلوم ہوتا ہے کہ میں نے سگریٹ کا ایک قش لیا ہو۔ میں اپنے ہی منہ سے نکلتے دھونوے سے کافی دیر تک محزوز ہوتی ہوں اور پھر جب سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھتی ہوں ایک سرخ دائرہ آنکھوں میں چبھنے لگتا ہے۔ گویا طلوع ہوتا ہوا آفتاب یہ کہ رہا ہو کہ لو ہمارے بھی کچھ مزے اٹھا لو، ستاروں کے لا محدود جہانوں اور قمر کی چاندنیوں سے خوب مزے لے لۓ۔ دائیں جانب چاند شرماتا ہوا دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔ غور سے سنوں تو یہ کہ رہا ہے میں اپنی پوری شان سے شب بیداری والوں کو ہی نصیب ہوتا ہوں۔ 

چڑیاں بھی جاگ رہی ہیں، ارے کیا یہ ہدہد نہیں؟ اور وہ سبز پرندہ تو یقیناً طوطا تھا۔ واہ! آج پہلی بار کسی طوطے کو بنا قید کے یوں موج مناتے دیکھا ہے۔ بوگن ویلا اور پیٹونیا کے پھول سینکڑوں کی تعداد میں میرے سامنے ہیں اور یقین جانۓ اس کا اثر میری آنکھوں اور میرے وجود پر نہایت ہی لطف آمیز ہے۔ اونچے اونچے درخت ہیں اور ان میں سے کچھ جاڑے سے بیزار معلوم ہوتے ہیں۔ پتے جھڑ چکے ہیں لیکن امید ابھی باقی ہے۔ کہیں کہیں سبزہ پھر سے سر اٹھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ 

میرے والد صاحب اکثر جوش ملی آبادی کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ 

ہم ایسے اہلِ نظر کو ثبوتِ حق کیلۓ

اگر رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نا ہوتے تو صبح کافی تھی

میں نے ایک موٹا سا نہایت ہی بدصورت کوٹ پہن رکھا ہے اور گردن اور سر کو ایک عونی اسکارف سے لپیٹ رکھا ہے۔ سچ کہوں تو سردی میں مزہ آ رہا ہے۔ ہاتھوں کو جیبوں کے تہوں میں ڈال کر دنیا کی تگُو دوہ سے بے نیاز و بے خبر میں اپنے خیالات میں گم ہوں۔ 

میں خود کو اللہ کی وسیع و عریض کائنات کا ایک چھوٹا سا زرہ محسوس کر رہی ہوں۔ میں صرف ایک چھوٹا سا زرہ ہوں مگر میرے اندر اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ اور اس باغ میں مجھ جیسے کئ زرے ہیں اور ہر زرے میں اپنی ہی ایک کائنات پنہاں ہے۔ اس پاک اور بے عیب ذات کی تسبیح بے ساختہ منہ سے نکلتی ہے جو سب کا رب ہے۔ وہ خود ہی بہتر جانتا ہے کہ ازل تا ابد اس نے کتنی ایسی کائناتوں کو تخلیق کیا ہے اور مزید کتنی آنے والی ہیں۔ 

وہی انہیں پالنے والا، ہر چیز کو سنبھالنے والا، رزق پہنچانے والا، راستا دکھانے والا، ہںسانے والا، رلانے والا، زندگی اور موت کے فیصلے کرنے والا اور تمام نظام کو چلانے والا ہے۔ وہی ذاتِ پاک جس کیلۓ میری خوشی بھی بے معنی نہیں ہے اور نا ہی میرے آنسو اس کی قدرت اور نظر سے باہر ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ العظیم! 

میری سانسوں کی رفتار کچھ بڑھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور یکایک میری توجہ میرے منہ سے نکلتے ہوۓ دھوںوے کی طرف جاتی ہے۔ اب یہ سگریٹ کا ایک قش نہیں لگ رہا بلکہ منہ سے اڑتا ہوا دھواں گویا ایک لمحہ، ایک سانس ہے جو گزر گیا۔ یہ اس اساسے کا ایک دینار ہے جو مجھے اس دنیا میں دے کر بھیجا گیا تھا۔ وہ خزانہ جس کے دینار دراصل وقت اور سانسیں ہیں اور میں خود بھی نہیں جانتی کہ کل کتنے دینار میرے نصیب میں ہیں، کتنے خرچ ہوۓ اور کتنے بقایا ہیں۔ اے کاش کی میں اس خزانے کو بیچ کر اس وحدہࣿ لا شریک کی یاری پا لوں!